نئی دہلی،05؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) پارلیمنٹ نہ چلنے کی وجہ سے این ڈی اے کے ایم پی بجٹ سیشن کے 23دنوں کی تنخواہ اور بھتے نہیں لیں گے، وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے جمعرات کو لوک سبھا میں یہ معلومات دی۔لیکن حکومت کے اس فیصلے سے نہ صرف ساتھی ٹیم شیوسینا کے بلکہ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی بھی متفق نہیں ہیں۔شیوسینا کے رہنما اروند ساونت نے کہا کہ جتنے دن پارلیمنٹ میں کام نہیں ہوا ہے اتنے دنوں کی تنخواہ اوربھتے نہ لینے کے معاملے پر حکومت سے ان کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ساونت نے کہا کہ ایوان چلانا برسراقتدار پارٹی کی ذمہ داری ہے اور ہم نے ایوان میں کوئی ہنگامہ نہیں کیا پھر ہم کیوں اپنی تنخواہ اوربھتہ چھوڑیں۔ پارلیمنٹ سے جانے کے بعد بھی ہم اپنے پارلیمانی حلقہ میں ایک لیڈر ہونے کی وجہ سے کام کرتے ہیں۔شیوسینا کے رہنما نے کہا کہ این ڈی اے میں کمیونکیشن کی کمی ہے۔صدر، نائب صدر یا دیگر کوئی انتخابات آنے پر ہی بی جے پی کو این ڈی اے کے اتحادیوں کی یاد آتی ہیں یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اسی رویے کی وجہ سے شیوسینا نے 2019 کا الیکشن الگ ہوکر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے بی جے پی کو نقصان ہونا فطری ہے۔بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا میں تو روز پارلیمنٹ آتا ہوں اور اگر ایوان نہیں چلتا تو اس میں میری کیا غلطی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے صدر نے نامزد کیا ہے ایسے میں یہ کیسے ہو گا کہ میں اپنی تنخواہ اور بھتے کوٹھکرا دوں۔بتا دیں کہ سینئر وکیل سبرامنیم سوامی نامزد رہنما ہے وہ بی جے پی میں شامل بھی ہیں۔